ہائبرڈ، آن گرڈ اور آف گرڈ سولر سسٹم میں فرق — کونسا آپ کے لیے بہتر ہے

6kW Hybrid Solar System lahore
Share This Post

پاکستان میں سولر لگواتے وقت پہلا فیصلہ یہی ہوتا ہے: آن گرڈ، ہائبرڈ یا آف گرڈ؟ تینوں کا کام مختلف ہے اور قیمت میں بھی بڑا فرق ہے۔ یہاں سیدھی زبان میں فرق سمجھیں۔

آن گرڈ سسٹم

آن گرڈ سسٹم صرف گرڈ سے جڑا ہوتا ہے، کوئی بیٹری نہیں ہوتی۔ دن میں سولر سے بجلی بنتی ہے، جو گھر استعمال کرتا ہے؛ جو بچ جائے وہ لیسکو کو نیٹ بلنگ کے تحت واپس چلی جاتی ہے (تقریباً 11 روپے فی یونٹ)۔ رات کو بجلی مکمل طور پر گرڈ سے آتی ہے، عام ریٹ پر۔

فائدہ: سب سے سستا آپشن، بیٹری کا کوئی خرچہ یا بدلنے کی فکر نہیں۔ نقصان: لوڈ شیڈنگ میں یہ حفاظت کے لیے خودبخود بند ہو جاتا ہے — گرڈ نہ ہونے کی صورت میں سولر بھی نہیں چلتا۔

ہائبرڈ سسٹم

ہائبرڈ سسٹم میں گرڈ بھی ہے اور لیتھیم بیٹری بھی۔ دن میں گھر پہلے سولر سے چلتا ہے، بچی ہوئی بجلی بیٹری چارج کرتی ہے، اور اگر پھر بھی بچے تو نیٹ بلنگ کے تحت گرڈ کو جاتی ہے۔ لوڈ شیڈنگ میں ضروری لوڈ بیٹری سے چلتا رہتا ہے — اسی لیے زیادہ تر بڑے گھر اور کاروبار ہائبرڈ کو ترجیح دیتے ہیں۔

فائدہ: لوڈ شیڈنگ میں بجلی بند نہیں ہوتی، رات کی بجلی بھی مہنگے گرڈ ریٹ کی بجائے اپنی محفوظ کی ہوئی بجلی سے ملتی ہے۔ نقصان: بیٹری کی وجہ سے آن گرڈ سے مہنگا۔

آف گرڈ سسٹم

آف گرڈ سسٹم گرڈ سے مکمل طور پر آزاد ہوتا ہے — نہ کنکشن، نہ نیٹ بلنگ۔ ساری بجلی سولر اور بیٹری سے آتی ہے۔ یہ عام طور پر ان جگہوں کے لیے ہے جہاں لیسکو کنکشن موجود نہیں، جیسے دور دراز کے فارم ہاؤس یا ٹیوب ویل۔ شہری گھروں کے لیے شاذ و نادر ہی یہ بہتر انتخاب ہوتا ہے کیونکہ گرڈ بیک اپ کے بغیر بیٹری کا سائز بہت بڑا رکھنا پڑتا ہے۔

قیمتوں کا موازنہ (تقریباً، ستمبر 2026)

سائز آن گرڈ ہائبرڈ (بیٹری کے ساتھ)
3 کلوواٹ 300,000 روپے 400,000 روپے
6 کلوواٹ 500,000 روپے 900,000 روپے
8 کلوواٹ 720,000 روپے 1,150,000 روپے (5 کلوواٹ گھنٹہ بیٹری)
10 کلوواٹ 850,000 روپے 1,500,000 روپے (5 کلوواٹ گھنٹہ بیٹری)
15 کلوواٹ 1,200,000 روپے 2,550,000 روپے (16 کلوواٹ گھنٹہ بیٹری)

یہ قیمتیں تقریباً ہیں اور لیسکو/نیٹ بلنگ کے اضافی چارجز شامل نہیں۔ مکمل قیمتوں کے لیے سائز کے حساب سے صفحہ دیکھیں۔

واپسی کا عرصہ (Payback)

صحیح سائز کے سسٹم پر آن گرڈ اور ہائبرڈ دونوں کی واپسی تقریباً 2 سے 3 سال میں ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بیٹری زیادہ تر گھر بہرحال لوڈ شیڈنگ اور وولٹیج کی حفاظت کے لیے خریدتے ہیں — چاہے سولر ہو یا نہ ہو۔ اسی لیے بیٹری کا خرچہ سولر کی واپسی کے حساب سے الگ رکھا جاتا ہے، اور صرف ہائبرڈ انورٹر اور وائرنگ کا اضافی خرچہ ہی شمار ہوتا ہے۔

کونسا سسٹم کس کے لیے؟

  • آن گرڈ: جن کے علاقے میں لوڈ شیڈنگ کم ہے اور بجٹ کم رکھنا ہے۔
  • ہائبرڈ: جہاں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور رات کی بجلی بھی چاہیے — لاہور کے زیادہ تر گھروں کا انتخاب۔
  • آف گرڈ: جہاں لیسکو کنکشن موجود ہی نہیں۔

عام سوالات

آن گرڈ اور ہائبرڈ میں بنیادی فرق کیا ہے؟ آن گرڈ میں بیٹری نہیں ہوتی، لوڈ شیڈنگ میں بند ہو جاتا ہے۔ ہائبرڈ میں بیٹری ہوتی ہے جو لوڈ شیڈنگ میں ضروری بجلی چلاتی رہتی ہے۔

لاہور میں زیادہ تر لوگ کونسا سسٹم لگواتے ہیں؟ ہائبرڈ، خاص طور پر بڑے گھروں میں، کیونکہ لوڈ شیڈنگ اور رات کی بجلی دونوں کا حل ایک ساتھ مل جاتا ہے۔

آف گرڈ سسٹم کب ضروری ہوتا ہے؟ صرف اس صورت میں جب لیسکو کنکشن موجود نہ ہو، جیسے دور دراز فارم ہاؤس یا ٹیوب ویل۔

کیا ہائبرڈ سسٹم کی واپسی آن گرڈ سے زیادہ وقت لیتی ہے؟ نہیں، اگر بیٹری کا خرچہ الگ شمار کیا جائے تو دونوں تقریباً 2 سے 3 سال میں واپسی دیتے ہیں، کیونکہ بیٹری بہرحال زیادہ تر گھر خریدتے ہی ہیں۔

اپنے گھر کے لیے صحیح سسٹم کا مشورہ لینے کے لیے واٹس ایپ کریں: 0321 878 3630۔

Read this page in English